امریکہ: ڈاک سے بھیجے گئے مسترد ووٹوں کی کثیر تعداد غیر یقینی صورت حال پیدا کر سکتی ہے

امریکہ: ڈاک سے بھیجے گئے مسترد ووٹوں کی کثیر تعداد غیر یقینی صورت حال پیدا کر سکتی ہے


امریکہ میں ہر صدارتی الیکشن میں ڈاک کے ذریعے ارسال کیے گئے ووٹوں میں سے لاکھوں بیلٹس کو کئی وجوہات کی بنا پر رد کر دیا جاتا ہے۔ ان وجوہات میں بیلٹوں کا مقررہ وقت کے بعد موصول ہونا اور ڈاک کے لفافے کے باہر مناسب دستخط کا نہ ہونا شامل ہیں۔

لیکن اس سال کرونا وائرس کے باعث نصف سے زیادہ امریکی ووٹر اپنا بیلٹ ڈاک کے ذریعے بھیج رہے ہیں یا پھر وہ الیکشن کے دن سے پہلے ووٹ ڈالنے کی سہولت استعمال کر کے مخصوص جگہوں پر جا کر ووٹ ڈال رہے ہیں۔

ان رجحانات سے مبصرین سمجھتے ہیں کہ الیکشن کے بعد ایسی ریاستیں جہاں کانٹے کے مقابلے متوقع ہیں، وہاں غیر یقینی کی صورت جنم لے سکتی ہیں۔

مثال کے طور پر فلوریڈا اور جارجیا کی دو جنوبی ریاستوں کو دیکھیں تو وہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مقابل ڈیموکریٹ جو بائیڈن تین نومبر کے الیکشن سے پہلے سخت مقابلوں میں نبرد آزما نظر آتے ہیں۔

یہ دونوں ریاستیں الیکشن سے پہلے بیلٹ پیپر کے رد کرنے کے متعلق ڈیٹا کو انتخابات سے پہلے ظاہر نہیں کرتیں۔

البتہ دو ماہرین ڈارٹ ماؤتھ کالج کے پروفیسر مائیکل ہیرن اور یونیورسٹی آف فلوریڈا کے پرو فیسر ڈینیئل اسمتھ نے ان ریاستوں کے ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کے سرکاری اعداد و شمار کو پرکھا ہے تاکہ اس بات کا تعین ہو سکے کہ یہاں پر کتنے ووٹوں کو رد کیے جانے کا امکان یا اندیشہ ہے۔

فلوریڈا میں اب تک 38 لاکھ ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالے جا چکے ہیں اور ان میں سے 15 ہزار کے قبول نہ ہونے کا خطرہ ہے۔ اس ریاست میں رد کیے جانے والے بیلٹ کی شرح 0.4 فی صد ہے۔

شمالی کیرولائنا کی ریاست میں ناقابلِ قبول بیلٹ کی شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ اکتوبر کی 25 تاریخ تک اس ریاست میں سات لاکھ 78 ہزار بیلٹس کو ڈاک کے ذریعے ارسال کیا گیا۔ اور اب ان میں سے دس ہزار بیلٹ ناقابلِ قبول ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان دو محققین کے مطابق اس طرح اس ریاست میں بیلٹ پیپر کے قبول نہ ہونے کی شرح 1.3 فی صد ہے۔

گزشتہ انتخابات کی طرح سفید فام اکثریتی آبادی کے مقابلے میں امریکی اقلیتوں کے بیلٹ زیادہ تعداد میں ناقابلِ قبول ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر شمالی کیرولائنا میں محققین نے نوٹ کیا کہ سفید فام ووٹروں کے مقابلے میں سیاہ فام ووٹروں کے بیلٹ کے ناقابلِ قبول ہونے کے اندیشہ کی شرح تین گنا زیادہ ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کی بنا پر ڈیموکریٹ سخت مقابلوں کی ریاستوں میں نتائج کو چیلنج کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا مناسب ہو گا کہ ایسے تمام بیلٹ جن کے درست ہونے کے متعلق شبہات ہوتے ہیں ان کو ناقابل قبول تصور نہیں کیا جاتا۔ ان دونوں ریاستوں میں اگر کسی بیلٹ میں کوئی غلطی ہونے کی صورت میں ووٹروں کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ اسے درست کر سکیں۔

فلوریڈا میں حکومت کے ایک ادارے کے مواصلات کے ڈائریکٹر مارک ارڈ کہتے ہیں ’’اس مرحلے پر ایسا سمجھنا قبل از وقت ہو گا کہ نقائص زدہ بیلٹوں کو رد کر دیا جائے گا اور انہیں گنتی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔‘‘

شمالی کیرولائنا کے بورڈ آف الیکشنز کے اطلاعات کے ڈائریکڑ پیٹرک گینن کا کہنا ہے کہ سرکاری اہل کاروں نے ان ووٹروں سے رابطے کرنے شروع کیے ہیں جن کے بیلٹ میں کوئی نقص ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایسے ووٹر جو بیلٹ پر کی گئی غلطی کو درست نہیں کر سکتے انہیں اجازت ہے کہ وہ 31 اکتوبر سے قبل ارلی ووٹنگ کی سہولت استعمال کر کے الیکشن کے دن سے پہلے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

پہلی نظر میں فلوریڈا اور جارجیا کی ریاستوں میں ایسے بیلٹ کی شرح جن کے غلطیوں کے باعث رد کیے جانے کا خدشہ ہے بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ان دو ریاستوں میں ہار اور جیت میں دس ہزار ووٹوں کا فرق بہت بڑا فرق تصور کیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں سال 2000 کے الیکشن سے پیدا ہونے والی صورت حال کی اکثر مثال دی جاتی ہے کہ ڈیموکریٹ ایل گور ری پبلکن جارج بش سے محض 538 ووٹوں سے ہارے تھے۔

آئندہ دنوں میں جب ڈاک کے ذریعے ارسال کیے گئے بہت زیادہ ووٹ موصول ہوں گے تو ناقابلِ قبول بیلٹ کی تعداد بھی بڑھنے کا امکان ہے۔

اس ضمن میں پروفیسر ہیرن کہتے ہیں کہ ایسی صورتِ حال ایک بھیانک خواب جیسی ہو گی جس میں رد کیے گئے بیلٹ کی تعداد ہار اور جیت کے ووٹوں کے فرق سے زیادہ ہو گی۔

بدھ تک یو ایس الیکشنز پراجیکٹ کے مطابق تقریباً پانچ کروڑ ووٹروں نے ڈاک کے ذریعے ووٹ ارسال کیے ہیں۔

ووٹر اب 19 ریاستوں میں ایسے بیلٹ کے تازہ ترین اسٹیٹس کے متعلق آن لائن سہولت کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں، جن کے متعلق انہیں بتایا جائے کہ ان کے بیلٹ میں کوئی غلطی ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔

ریاست کولوراڈو میں ایسے ووٹروں کو ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے اور اُنہیں اسمارٹ فون پر بیلٹ میں درستگی کرنے کے اجازت بھی ہے۔

اس سال الیکشن سے قبل ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے درمیان کئی مہینوں تک عدالتوں میں ان سوالوں پر غور اور فیصلے آتے رہے کہ ایسے بیلٹ جن پر دستخط جیسے مسائل سامنے آئیں انہیں نومبر تین کے الیکشن کے دن کے بعد کب تک موصول ہونا چاہیے اور ان کا شمار کب تک ہونا چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق ری پبلکن ووٹروں کے مقابلے میں ڈیموکریٹک ووٹر ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

کچھ ریاستوں نے تین نومبر کے الیکشن کے دن کے بعد موصول ہونے والے بیلٹس کو شمار کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن فلوریڈا سمیت 32 ریاستیں الیکشن کے دن کے بعد ان بیلٹس کو قبول نہیں کریں گی۔

Photo Credit : https://d279m997dpfwgl.cloudfront.net/wp/2020/08/GettyImages-1206477683-1000×667.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: