امریکہ: پہلے صدارتی مباحثے میں ٹرمپ اور بائیڈن کی ایک دوسرے پر کڑی تنقید

امریکہ: پہلے صدارتی مباحثے میں ٹرمپ اور بائیڈن کی ایک دوسرے پر کڑی تنقید


امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے صدارتی امیدواروں کے درمیان ہونے والے پہلے صدارتی مباحثے کے دوران ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن نے ایک دوسرے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ریاست اوہائیو کے شہر کلیو لینڈ میں منگل کی شب ہونے والے مباحثے میں کرونا وائرس کے سبب امریکہ میں دو لاکھ پانچ ہزار اموات، وائرس سے بچاو کی حکمت عملی، تین نومبر کے انتخابات کی شفافیت، سپریم کورٹ کے جج کے عہدے کے لیے قدامت پسند جج ایمی کونی بیرٹ کی صدر ٹرمپ کی جانب سے نامزدگی، ملک کے اندر نسلی معاملات، ماحولیات سے متعلق پالیسیوں، صحت کے نظام اور دیگر موضوعات پر دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لیا​

ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے کہا کہ عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے صدر کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ مہلک وبا ہے لیکن انہوں نے عوام کو کچھ نہیں بتایا۔

بائیڈن کا کہنا تھا کہ صدر کو کرونا وبا کی پیش قدمی روکنی چاہیے تھی۔ جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے شان دار اقدامات کیے ہیں اور ان کے بقول بروقت اقدامات سے کئی جانیں بچائیں اور ویکسین کی تیاری سے بھی چند ہفتے کی دوری پر ہیں۔

مباحثے کے دوران تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے متعلق دونوں امیدواروں نے مختلف رائے کا اظہار کیا۔

جو بائیڈن نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ الیکشن کے روز اپنا حقِ رائے دہی لازمی استعمال کریں اور صدر ٹرمپ کی بیانات سے نہ گھبرائیں۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں پر غیر ضروری طور پر شک کا اظہار کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا یہ الزام دہرایا کہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھاندلی کا خدشہ ہے۔ اُن کے بقول گزشتہ ہفتے کچرے سے بیلٹ پیپرز بھی ملے ہیں۔

مباحثے کے دوران ایک موقع پر جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ سے ٹیکس دستاویزات دکھانے کا مطالبہ کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک اسکول ٹیچر سے بھی کم ٹیکس ادا کیا۔

ٹیکس ادائیگی سے متعلق جو بائیڈن کی تنقید پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے لاکھوں ڈالرز ٹیکس ادا کیا ہے۔

امیدواروں کے ایک دوسرے پر ذاتی نوعیت کے حملے

نوے منٹ تک جاری رہنے والے مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں نے خاصا وقت ایک دوسرے پر ذاتی نوعیت کے حملوں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور برے القابات پر صرف کیا۔

جو بائیڈن نے کہا کہ صدر ٹرمپ امریکہ کی تاریخ کے بدترین صدر ہیں۔ انہوں نے کئی بار ڈونلڈ ٹرمپ کو مسخرہ بھی کہا۔ ایک موقع پر انہوں نے صدر ٹرمپ کو بار بار اپنی بات کاٹنے پر ‘شٹ اپ’ تک کہا۔

ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی صدارت کے 47 ماہ میں اتنا کام کیا ہے جتنا بائیڈن بطور نائب صدر اور سینیٹر 47 برس میں نہیں کر سکے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر بائیڈن ملک کے اگلے صدر منتخب ہوئے تو عوام مایوسی کا شکار ہوں گے کیوں کہ ان کے بقول ڈیموکریٹک پارٹی کے پلان میں ٹیکسز میں اضافہ شامل ہے۔

امیدواروں کی ایک دوسرے کو ٹوکنے کی کوشش

مباحثے کے دوران صدر ٹرمپ نے کئی مرتبہ اپنے حریف کو بیچ میں بولنے سے رکنے کا اشارہ کیا۔ تاہم اس دوران بائیڈن مسلسل کیمرے کی جانب متوجہ رہے جس پر صدر ٹرمپ نے اُنہیں براہِ راست امریکی عوام کو مخاطب کرنے پر بھی ٹوکا۔

مباحثے کے میزبان اور امریکی نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ سے وابستہ صحافی کرس والس نے مباحثے کے دوران ایک موقع پر صدر ٹرمپ کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ وہ مباحثے کے قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دوسرے امیدوار کو بات مکمل کرنے کا موقع نہیں دے رہے۔

بائیڈن نے اٹلانٹک میگزین کے ایک آرٹیکل کا حوالے دیتے ہوئے الزام لگایا کہ صدر ٹرمپ نے 2018 میں پیرس میں پہلی جنگِ عظیم کی صد سالہ تقریبات کے موقع جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کو “شکست خوردہ” قرار دیا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے بائیڈن کے اس الزام کی تردید کی۔

بائیڈن نے جذباتی انداز میں ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میرے بیٹے بو بائیڈن کو ناکام قرار نہیں دے سکتے۔

یاد رہے کہ بو بائیڈن امریکہ کی مسلح افواج کا حصہ رہے تھے اور بعد ازاں سیاست میں آئے تھے۔ ان کا 2015 میں کینسر کے باعث انتقال ہو گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے بائیڈن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں بو بائیڈن کو نہیں جانتا البتہ بائیڈن کے بیٹے ہنٹر کو جانتا ہوں جنہوں نے ان کے بقول یوکرین کی گیس کمپنی میں اُس وقت اہم عہدہ حاصل کیا جب اُن کے والد امریکہ کے نائب صدر تھے۔

کلیولینڈ شہر کی ایک یونیورسٹی میں دونوں امیدواروں کے درمیان ہونے والا یہ مباحثہ 90 منٹ تک جاری رہا جسے تمام بڑے نشریاتی اداروں اور انٹرنیٹ پر براہِ راست دیکھا گیا۔ صدارتی مباحثہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب پانچ ہفتوں کے بعد امریکہ میں تین نومبر کو صدارتی انتخاب ہونا ہے۔

دونوں امیدواروں کی عمریں 70 برس سے زیادہ ہیں اور ان کے درمیان مزید دو مباحثے ہونا ہیں۔ دونوں امیدوار اگلی بار 15 اکتوبر کو فلوریڈا جب کہ 22 اکتوبر کو ریاست ٹینیسی میں مدِ مقابل ہوں گے۔

نائب صدر کے دونوں امیدواروں – ری پبلکن پارٹی کے مائیک پینس اور ڈیموکریٹک پارٹی کی کاملا ہیرس – کے درمیان انتخابی مہم کا واحد مباحثہ 7 اکتوبر کو ریاست یوٹا کے شہر سالٹ لیک سٹی میں ہوگا۔

https://media.nbcwashington.com/2020/09/GettyImages-1228796400.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: