امریکہ: انتقالِ اقتدار کے ادارے کو بائیڈن کے باضابطہ صدر تسلیم کیے جانے کا انتظار

امریکہ: انتقالِ اقتدار کے ادارے کو بائیڈن کے باضابطہ صدر تسلیم کیے جانے کا انتظار


امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم انتقالِ اقتدار کے عمل میں معاونت کرنے والے ادارے نے اب تک غیر حتمی نتائج کے مطابق نو منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کو تسلیم نہیں کیا جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن میں فراڈ کے الزامات لگاتے ہوئے اپنی شکست ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی بھی کی ہے۔

لہذا واشنگٹن میں حکومت کی منتقلی کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا۔ انتقالِ اقتدار کے عمل کی ذمہ داری جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن نامی ادارے کو سونپی جاتی ہے اور یہی ایجنسی کسی امیدوار کی کامیابی کو سرکاری طور پر تسلیم کرتی ہے۔

اقتدار کی منتقلی کا عمل تقریباً دو ماہ میں مکمل ہوتا ہے اور 20 جنوری کو نیا امریکی صدر حلف اٹھانے کے ساتھ اپنے چار سالہ دورِ اقتدار کا آغاز کرتا ہے۔

لیکن ابھی تک تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا۔

امریکی خبررساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ اور زیادہ تر نیوز ٹی وی چینلوں نے ڈیموکریٹک جماعت سے تعلق رکھنے والے جو بائیڈن کو 2020 کے الیکشن میں ریاست پینسلوینیا سے ووٹوں کی برتری کی بنا پر انتخابات کے چار روز بعد فاتح قرار دیا تھا۔

قومی میڈیا کے مطابق بائیڈن کو 538 میں سے 279 الیکٹورل ووٹ حاصل ہیں۔

امریکی صدارتی انتخاب میں فتح حاصل کرنے کے لیے کسی بھی امیدوار کو کم ازکم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں میں نتائج کے مطابق جو بائیڈن کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کو اب تک 214 الیکٹورل ووٹ ملے ہیں جب کہ کچھ ریاستوں کے نتائج ابھی ترتیب دیے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے مقرر کی گئی ایمیلی مرفی انتقالِ اقتدار کی ایجنسی کی رہنما ہیں۔ ان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بائیڈن کے قانونی طور پر صدر تسلیم ہونے کے بعد ہی انتقالِ اقتدار کا عمل شرو ع ہوگا۔

اس وقت یہ کہنا دشوار ہے کہ بائیڈن کی جیت کو کب قانونی طور پر تسلیم کیا جائے گا کیونکہ اب بھی ملک کی مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

صدرٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اب تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کو نہیں مانتے اور انہوں نے ووٹوں کی گنتی میں مبینہ بے قاعدگیوں کے متعلق کئی مقدمات دائر کیے ہیں۔

ٹرمپ کو توقع ہے کہ وہ ان مقدمات کے ذریعے ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے الیکٹورل کالج میں بائیڈن کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

سینیٹ میں اکثریتی ری پبلیکن پارٹی کے رہنما سینیٹر مچ میکونل کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو سو فی صد یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان مبینہ بے قاعدگیوں کے سلسلے میں قانونی راہ اختیار کر کے ان کی جانچ پڑتال کرائیں۔

دوسری جانب غیر حتمی نتائج کے مطابق نو منتخب صدر جو بائیڈن اور ان کی نو منتخب نائب صدر کاملا ہیرس اقتدار کی منتقلی کے لیے اپنے تیار کردہ عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

Photo Credit : https://www.newdelhitimes.com/election-2020-today-transition-limbo-bidens-new-fight/

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: