آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان شدت اختیار کرتی لڑائی پر عالمی تشویش

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان شدت اختیار کرتی لڑائی پر عالمی تشویش

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ناگورنو کاراباخ کے علاقے پر تیسرے روز بھی جھڑپیں جاری رہیں جب کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی بین الاقوامی سرحدوں کے اندر بھی حملوں کے الزامات لگائے ہیں۔

کئی دہائیاں پہلے جنم لینے والے اس تنازع کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کے نتیجے میں اب تک مسلح افواج کے اہلکاروں سمیت درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس جنگی صورتِ حال میں دنیا بھر سے کئی ممالک نے دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ لڑائی روک دیں۔

منگل کو اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کونسل کے اراکان بھی اس سنگین مسئلے پر غور کر رہے ہیں۔

ہمارا ہند کے مطابق ، آذربائیجان کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ آرمینیائی فوج نے اس کے دشکاسن علاقے پر بمباری کی۔ ارمینیائی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کی فورسز نے ورڈنس قصبے میں ایک فوجی یونٹ کو نشانہ بنایا ہے ، جس میں بس میں آگ لگنے سے ایک شہری ہلاک ہوگیا۔

آرمینیا کی وزارت خارجہ نے آذربائیجان کے دشکسان پر بمباری کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ آرمینیا کے خلاف جارحیت کو اس کے وسیع علاقوں تک پھیلانا چاہتا ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق اتوار کو شروع ہونے والی جھڑپوں میں ناگورنو کاراباخ کے 84 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ آذربائیجان کے صدر الہام عل ایو نے کہا ہے کہ اِن چھڑپوں میں اُن کے 10 شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ناگورنو کاراباخ آذربائیجان کی علاقائی حدود میں واقع ہے، لیکن اس کی حکومت کو آرمینیا کی پشت پناہی حاصل ہے اور اس خطے میں آرمینیائی نسل کے لوگوں کی حکومت ہے۔ یہاں یہ تنازع 1994 میں سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم کے بعد سے جاری ہے۔

پہاڑی سلسلوں کا سترہ سو مربع میل پر مشتمل ناگورنو کارا باخ کا یہ علاقہ امریکی ریاست ڈیلاویئر کے مساوی ہے۔

عالمی تناظر میں اس تنازع کی اہمیت اس لیے کئی گنا بڑھ گئی ہے کیونکہ فریقین کو دو بڑے ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔ ایک طرف روس آرمینیا کے ساتھ ہے اور اس کا آرمینیا سے دفاعی اتحاد بھی ہے جب کہ دوسری جانب ترکی آذربائیجان کا حلیف ہے۔

دریں اثنا سلامتی کونسل کے ارکان منگل کو خطے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر بات چیت کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس یورپی یونین کے ارکان کی سفارش پر طلب کیا گیا ہے، جن میں برطانیہ، بیلجیم، ایسٹونیا، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔

https://foreignpolicy.com/wp-content/uploads/2020/08/GettyImages-1203490662.jpg?w=1539

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: