آخری صدارتی مباحثہ: ٹرمپ اور بائیڈن کا شائستہ انداز؛ کرونا، ماحولیاتی تبدیلی گفتگو کا محور

آخری صدارتی مباحثہ: ٹرمپ اور بائیڈن کا شائستہ انداز؛ کرونا، ماحولیاتی تبدیلی گفتگو کا محور

امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن کے درمیان آخری صدارتی مباحثے میں کرونا وائرس، ماحولیات اور نسلی امتیاز کے مسائل گفتگو کا محور رہے۔

ریاست ٹینیسی کے شہر نیشول کی بیلمونٹ یونیورسٹی میں جمعرات کی شب منعقدہ صدارتی مباحثے میں کرونا وائرس سے امریکہ میں اموات اور اس سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات سمیت امریکہ میں نسلی پرستی اور ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل گفتگو کا محور رہے۔

کرونا وائرس سے متعلق سوال پر ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا سے نمٹتے ہوئے امریکہ میں اموات کی تعداد دو لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے اور جو بھی اس کا ذمہ دار ہے اسے صدر کے عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کس نے بتایا کہ عالمی وبا ایسٹر تک ختم ہو جائے گی۔

ماڈریٹر کے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم وبائی مرض کے خلاف سخت جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ نجات مل رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بائیڈن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اُن پر الزام عائد کیا کہ ملک کا صدر بننے کی صورت میں وہ ملک کو بند کر دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر بیوروکریسی کے کسی ایک شخص نے بھی شٹ ڈاؤن کا کہہ دیا تو جو بائیڈن پورے ملک کو بند کر دیں گے۔

ایک سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم بیماری کو سمجھ رہے ہیں، اس پر مطالعہ جاری ہے اور ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔​

جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ “وہ کہتے ہیں کہ ہم اس مرض کے ساتھ جینا سیکھ رہے ہیں، میں کہتا ہوں لوگ اس کے ساتھ مرنا سیکھ رہے ہیں۔

جمعرات کو ہونے والے مباحثے میں دونوں امیدواروں نے پہلے مباحثے کے مقابلے میں نسبتاً شائستہ انداز اپنایا اور ایک دوسرے کو اپنا نکتہ ںظر بیان کرنے کا موقع دیا۔

اس سے قبل 29 ستمبر کو ہونے والے پہلے صدارتی مباحثے میں دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر ذاتی حملے اور تنقید کی تھی۔ اس مباحثے کو سیاسی پنڈتوں نے امریکہ کی تاریخ کا بدترین مباحثہ قرار دیا تھا۔

ریاست ٹینیسی میں ہونے والے 90 منٹ کے اس مباحثے میں ہر 15 منٹ کے سیشن کے ابتدائی دو منٹ میں ایک امیدوار کا مائیک بند رہا تاکہ دوسرے امیدوار کو اپنے ابتدائی کلمات کہنے کا پورا موقع مل سکے۔

این بی سی نیوز سے وابستہ مباحثے کی میزبان کریسٹن ویلکر نے مباحثے کے لیے چھ سوالات کا انتخاب کیا تھا جو کرونا وائرس،امریکی عوام، ماحولیاتی تبدیلی، نسلی امتیاز، قومی سلامتی اور ملکی قیادت سے متعلق تھے۔

آخری مباحثے سے قبل صدر ٹرمپ اور ان کی انتخابی مہم نے مباحثے کی میزبان کریسٹن ویلکر کو متعصب قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے مباحثے کے موضوعات کے انتخاب پر بھی ناراضی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ مباحثے میں خارجہ پالیسی کو زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

Photo Credit : https://www.newdelhitimes.com/trump-biden-spar-as-last-debate-opens/

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: