‘آئی پی ایل کے دوران کرونا وائرس کے 20 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جائیں گے’

‘آئی پی ایل کے دوران کرونا وائرس کے 20 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جائیں گے’

‘انڈین پریمیئر لیگ’ کی میڈیکل پارٹنر کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران کرونا وائرس کے 20 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

آئی پی ایل دنیا کی مہنگی ترین کرکٹ لیگ سمجھتی جاتی ہے۔ آئندہ ہفتے 19 ستمبر کو اس کا 13 واں سیزن متحدہ عرب امارات میں شروع ہو رہا ہے۔

بھارت میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث رواں برس آئی پی ایل کا انعقاد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں کیا جا رہا ہے۔

آئی پی ایل میں حصہ لینے والی آٹھ ٹیموں کے 200 سے زائد کھلاڑی یو اے ای پہنچ رہے ہیں۔ یو اے ای پہنچنے والے کھلاڑیوں نے ہوٹل پہنچنے پر چھ دن قرنطینہ میں گزارے تھے۔

ان تمام کھلاڑیوں کے یو اے ای پہنچنے پر کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ دو دن بعد ان تمام کھلاڑیوں کے کرونا ٹیسٹ دوبارہ کیے گئے۔ دوسرے ٹیسٹ کے بعد کھلاڑیوں کو ایک ماحول میں منتقل کر دیا گیا۔

اس طریقہ کار کا اطلاق آئی پی ایل کے دیگر اسٹاف، امپائرز، بی سی سی آئی کے حکام سمیت سب پر کیا گیا۔ گراؤنڈ میں موجود رہنے والے تمام افراد کے کرونا ٹیسٹ بھی لازمی قرار دیے گئے ہیں۔

ہمارا ہند کے مطابق ، ابوظہبی میں آئی پی ایل کے میڈیکل پارٹنر ، وی پی ایس ہیلتھ کیئر نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اب تک تقریبا about 3،500 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

‘وی پی ایس ہیلتھ کیئر’ کے ایک ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ آئی پی ایل کے دوران کرونا وائرس کے 20 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل میں شامل کھلاڑیوں اور حکام کو ان کی نقل و حرکت ہوٹل اور اسٹیڈیم تک محدود رکھنے کا سختی سے پابند کیا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ آئی پی ایل میں شرکت کرنے والی ٹیموں کے یو اے ای پہنچنے پر انتظامیہ کو اس وقت شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا جب چنائی سپر کنگز کے دو کھلاڑیوں اور عملے کے دیگر 11 ارکان کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔

چنائی سپر کنگز کے سینئر بلے باز سریش رائنا اور تجربہ کار بالر ہربھجن سنگھ ذاتی وجوہات کے باعث ٹورنامنٹ کا حصہ نہیں ہیں۔

ممبئی انڈینز کے کھلاڑی سری لنکا کے لاستھ ملنگا اور دہلی کیپیٹلز کے کھلاڑی انگلینڈ کے جیسن روئے بھی ٹورنمنٹ کا حصہ نہیں ہیں۔

ٹورنامنٹ کا آغاز ممبئی انڈینز اور چنائی سپر کنگز کے درمیان ابوظہبی میں میچ سے ہو گا۔

ٹورنامنٹ کے 20 میچ ابوظہبی، 24 دبئی اور 12 شارجہ میں ہوں گے۔ مجموعی طور پر یہ ایونٹ 45 دن تک جاری رہے گا۔

یہ آئی پی ایل کا 13 واں سیزن ہے جو رواں سال مارچ میں منعقد ہونا تھا لیکن وبائی مرض کی وجہ سے اسے بار بار ملتوی کیا گیا تھا۔

آئی پی ایل، بھارتی کرکٹ بورڈ کے لیے کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر رواں سال یہ ایونٹ منسوخ ہو جاتا تو بورڈ کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا۔

https://www.easterneye.biz/wp-content/uploads/2020/09/GettyImages-1228137303.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: