آئیوٹا نے نکاراگوا کے شمال مشرقی علاقے میں تباہی مچا دی

آئیوٹا نے نکاراگوا کے شمال مشرقی علاقے میں تباہی مچا دی

بلیو یونیورسٹی کے طالب علم جیسن برموڈز نے حمارا ہند کو بتایا کہ بہت سارے گھروں کی چھتیں اور آس پاس کی باڑیں اڑا دی گئیں ہیں اور پھلوں کے درخت اکھڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس منظر کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

سمندری طوفان آئیوٹا نے لاطینی امریکہ کے ملک نکاراگوا کے شمال مشرقی علاقے میں تباہی مچا دی ہے۔ ہیری کین پیر کو رات گئے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تھا جس کے ساتھ تیز ہوائیں اور بارشیں ہیں۔

موسمیات کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طوفان سے بڑے پیمانے پر سیلاب آ سکتے ہیں اور مٹی کے تودے گر سکتے ہیں۔

سمندری طوفانوں کے امریکہ کے قومی مرکز نے کہا ہے کہ جس وقت ہیری کین آئیوٹا نکاراگوا سے ٹکرایا تو اس کی شدت کیٹیگری چار کے طوفان کے مساوی تھی اور اس کے ساتھ چلنے والی ہواؤں کی رفتار 210 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

طوفان سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ پناہ گاہوں میں چلے گئے جب کہ نکاراگوا کی حکومت نے طوفان کی آمد سے قبل نشیبی ساحلی علاقوں سے ہزاروں لوگوں کو نکال لیا تھا۔

ساحلی علاقے کے قریب واقع ایک قصبے بلوی کے ایک رہائشی نے میڈیا کو بتایا کہ تیز ہواؤں کے عمارتوں اور دھاتی ڈھانچوں کے ساتھ ٹکرانے سے ایسی آوازیں پیدا ہو رہی ہیں جیسے گولیاں چل رہی ہیں۔

بلوی یونیورسٹی کے ایک طالب علم جیسن برموڈز نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ بہت سے مکانوں کی چھتیں اور گھروں کے گرد قائم باڑیں اڑ گئی ہیں۔پھلوں کے درخت اکھڑ کر گر گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ منظر ساری عمر نہیں بھلا سکیں گے۔

ہیری کین سینٹر نے کہا ہے کہ سمندری طوفان آیئوٹا، عین اسی مقام پر نکاراگوا سے ٹکرایا ہے جہاں دو ہفتوں سے بھی کم عرصہ پہلے کیٹیگری فور کا ایک اور سمندری طوفان ایٹا ٹکرایا تھا۔

آئیوٹا جنوب میں اسی جگہ آیا ہے جہاں تین نومبر کو ہیری کین ایٹا ساحل سے ٹکرایا تھا۔

ہیری کین ایٹا کی زد میں آ کر 130 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے ساتھ آنے والی بارشوں اور سیلابوں نے وسطی امریکہ کے کئی علاقوں میں تباہی مچا دی تھی۔

Photo Credit : https://ktla.com/wp-content/uploads/sites/4/2020/11/GettyImages-1285853915-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: